25 جولائی 2012 - 19:30

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری فلاح و بہبود نثار علی فیضی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ نے اپنے خلاف عوامی جذبات کے اظہار کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔

ابنا: وزیر اعلیٰ انتقامی کاروائیوں پر اتر آئے ہیں ۔ 49 سرکاری ملازمین کی انتقاماً برطرفی مہدی شاہ کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلتستان کے دورے سے واپسی پر مرکزی سیکرٹریٹ میں مرکزی کابینہ کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہدی شاہ حکومت نے جن بے گناہ افراد کی معطلی کا حکم نامہ جاری کیا ہے ان میںسے زیادہ تر کا تعلق محکمہ تعلیم، پی ڈبلیو ڈی اور ایگریکلچر سے ہے۔ مہدی شاہ حکومت کے دوہرے رویے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن سرکاری ملازمین نے مہدی شاہ کے خطاب کوسنااور وہاں پر اسلحہ کی نمائش کی ان پر کسی قانون کااطلاق نہ ہونا افسوسناک امر ہے۔ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو متوجہ کرتے ہوئے نثار فیضی نے کہا کہ مہدی شاہ ایسے نااہل شخص کی بوکھلاہٹ اور عوام دشمن پالیسیاں پی پی پی کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہی ہیں۔ اور وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں پی پی پی کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے۔ نثار فیضی نے ایس پی اور ڈی سی سکردوسمیت مقامی انتظامیہ کی جانبدارانہ پالیسیوں کوغیرآئینی و قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیورو کریسی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا کردار اداکر رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کے پیش نظر غیرعوامی نمائندے عوامی جذبات کو کچلنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے صدر پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی عوامی سطح پر جگ ہنسائی کا باعث بننے والے وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کے خلاف فوری طور پر کاروائی کریں۔ نثا ر فیضی کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان دنیا بھر کے مظلوموں اور محروموںکی آواز بن چکی ہے۔

.......

/169